Rana Sanaullah Bayan Against Khatm-e-Nubuwwat

1254

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے: رانا ثناءاللہ کو قادیانیوں کو مسلمان قرار دینا مہنگا پڑ گیا، وزیر قانون کے لیے انتہائی بری خبر آ  گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی جانب سے قادیانوں سے متعلق دیئے جانے والے بیان نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی نون لیگ کی جانب سے قادیانیوں پر کی جانی والی مبینہ نوازشوں اور عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا الزام عائد کرتے ہوئے طوفان برپا ہے تاہم اب ملک کے جید علمائے کرم علمائے کرام اور دینی جماعتوں نے بھی میدان میں آتے ہوئے فوری طور پر رانا ثنا اللہ کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے بصورت دیگر ن لیگ کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔

مسلم لیگ نون اور شریف برادران کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہم عقیدہ ختم نبوت ﷺ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر قانون کے بیانات قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے جو بھی کہا ہے غلط کہا ہے۔ کیونکہ یہ معمولی فرق نہیں ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ﷺ قرآن کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ ایک اہم فرق ہے۔اگر معمولی فرق ہوتا تو آئین میں قادیانیوں کی غیر مسلم قرار نہ دیا جاتا۔ اب ضروری ہے کہ رانا ثنا اللہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کا اقرار کریں اور کلمہ طیبہ پڑھیں۔ جبکہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے اس بیان سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کی حمایت میں بیان دے کر رانا ثنا اللہ نے آئین پاکستان پر حملہ کیا ہے۔رانا ثنا اللہ خان کو فی الفور عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ دوسری جانب تحریک تحفظ حرمین شریفین کے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر قانون حکومت کی زبان بول رہے ہیں۔ حکومتی آشیر باد کے بغیر رانا ثنا اللہ ایسا بیان دینے کا قدم نہیں اُٹھا سکتے۔ ہمارا پہلا مطالبہ ہے کہ رانا ثنا اللہ کو عہدے سے ہٹایا جائے ورنہ ہم جلد اجلاس بُلا کر تحریک کا اعلان کریں گے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here