سعودی عرب میں مسجد الحرام کے اندر دہشت گردی کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردوں کی ناپاک کوشش کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

مکہ مکرمہ میں دو مقامات عسیلہ اور ایاد المسافی میں کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زائد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی اس کوشش کے بعد دہشت گردوں کی معاونت کرنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارا عزم مزید بڑھے گا، کوئی باہوش شخص ایسی کوشش کی تاویل پیش نہیں کر سکتا۔

اردن کے وزیر مواصلات اور حکومتی ترجمان محمد مومنی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں سے لڑنے کے لیے دنیا کو مشرکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے مسجد الحرام پر حملے کی کوشش کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات تک کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ان دہشت گردوں اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف دوسرے ملکوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے کہا کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے سے بھی زیادہ اہم کام یہ ہے کہ ذہنوں کو انتہاپسند نظریات سے آزاد کرایا جائے۔

مصر کے وزیر اوقاف محمد مختار نے کہا کہ مصر دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

بحرین کی حکومت کی جانب سے ایک بیان میں سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت کو سراہا گیا اور کہا کہ بحرین خطے میں امن و سلامتی کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کے ساتھ ہے۔