ہم کھا لیں گے کون سا قیامت آ جاۓ گی

372

کالم کا نام : عبیدیاں
ہیڈ لائن: ہم کھا لیں گے کون سا قیامت آ جاۓ گی

راستے میں جا رہا تھا کہ ایک آواز کانوں میں پڑی لوگوں کے کھانے سے کچھ نہیں ہوتا اگر ہم کھا لیں گے تو کون سا قیامت آ جائے گی۔ قدم رک سے گۓ بات کا حلق سے نیچے اترنا محال ہو رہا تھا پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سفید پوش انسان کھڑا ہاتھوں کو اوپر نیچے کرنے میں مصروف تھا۔ نہایت ہی مطمئن انداز میں کچھ ارشاد فرما رہے تھے نظر کے اختلاف نے شاید مجھے مجرم ہی بنا دیا تھا کہ ایک عمر رسیدہ شخص نےکہا بیٹا کیا سوچ رہے ہو ۔عارفی صاحب٬ کچھ نہیں انہوں نے کہا انسان کے اندر ایک ایسا کردار ہوتا ہے جو اسے لمحہ بھر میں عرش سے فرش پہ لے آتا ہے۔

عارفی صاحب عرش سے فرش کی بات سمجھ میں آتی ہے کردار سے کیا مطلب؟ بیٹا اختصار سے یہی کہوں گا انڈیا سے پاکستان تو بنا پر حواس کے پجاریوں نے پاک کو بھی ناپاک کر دیا۔جہاں لاکھوں نے آبیاری دی وہاں نفس و مال کے کیڑے پیدا ہو گئے حالات نے ان کی زندگی میں برکت دی ماحول کی کھلی چھٹی سے ان کی تربیت کا آغاز ہوا۔تربیت مکمل ہوئی نہ تھی کہ اساتذہ کو ہی لوٹ لیا۔ گھر کی بات تھی باہر کانوں کان خبر نہ ہوئی ان کی چوکھٹ کا وسیلہ ایسا کام آیا کہ کچھ کیے بغیر ہی کشکول بھر گیا۔معاشرے میں شناختی کارڈ بنتے ہی خدمت گزاروں کا اشتہار نکلوا دیا۔چیلوں کی بھرمار نے زندگی کا سلیقہ ہی بدل دیا جانشینوں نے اطاعت و خردبردگی میں بیشں بہا اصلاحات متعارف کروائی لیکن آستانہ کے کشکول کبھی خالی نہیں ہوۓ۔مرشد کو خدمت گزاروں کی دوکانداری کا علم ہوا تو ٹیکس کی اصلاح نافذ کر دی۔40 ٪آستانے کا تو 10 ٪کرایے کی مد میں کاٹ لیا جاتا تھا۔خدمت گزاروں کی فیلڈ سے واقفیت نے یہ ٹیکس مسکراتے ہوۓ قبول کر لیا۔گلی محلوں میں مریدین کی لسٹ نے انہیں کھیلنا اور بھی آسان کر دیا۔اس چور بازاری میں بھرتیوں کی ایک لمبی فہرست تیار کی گئ۔25 ٪تنخواہیں بشمول ٹیکس میں یہ بھرتیاں جاری تھیں کہ خدمت گزاروں کا نیٹ ورک اتنا وسیع و عریض ہو گیا کہ ڈاک کا نظام متعارف کروانا پڑا۔10 ٪ڈاکیا عندیہ دینے کے لے لیتا تو گن گانے والے بھی حصہ دار نکل آئے۔ہمارے حصے میں 15 ٪اقساط کی مد میں شہد کے قطروں کی طرح آ رہا ہوتا ہے۔

جہاں لاکھوں کی قربانی نے اس شجر کو پاک کیا وہی اس کو ناپاک کرنے والے ناپاکی کے طریقے ڈونڈھتے رہے۔سایہ تو درکنار خوشحالی کے پتوں کو ہی کیڑوں کطرح کھانا شروع کر دیا۔پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ سرحدوں کے پار دشمنوں کی تمیز ہی بھول گئے جو آگ دلوں میں اس شجر کے دشمنوں سے ہونی چاہیے تھی وہ گھروں میں لگا لی۔جہاں محبتوں کا نزول ہونا چاہیے تھا وہاں مسلکوں کی نفرت نے آن گھیرا۔کافر ہونے کے مزائل اور میں جنتی ہوں کے بنکرز نے شجر کی ٹہنیوں پہ بندروں کا راج قائم کر دیا۔اگر کسی رعایا کے مالک ایسے ہونگے تو ماچس ہر کسی کے ھاتھ میں ہو گی۔ یہی ماچس ان کی طاقت اور کم عقلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جو ولولہ انسانوں کی خدمت کا خون کی ندیوں سے سیکھا تھا اسکی پامالی کے طریقوں میں جدت پیدا کی۔چوری,ڈکیتی کو شغل اور بھائی پہ پرچہ امتحان سمجھ کر دیا جاتا ہے۔

پاس کروانے کے لیۓ نذرانے دیے جاتے ہیں تاکہ امتحان میں سوالات مشکل ڈالیں جائیں۔آئین کے پاسدار آئینی لسی کوڑیوں میں بیچ کر نظام ہضم کو دوش دے رہے ھوتے ہیں۔فون کالز گارڈ آف آنرز کی طرح لینا،اصلاح و دانشوری کے خطوط کا تبادلہ آئن لائن کیا جاتا ہے۔گورنمنٹ کا مال تو مال غنیمت سمجھا کر دستر خوان پہ زبیدہ آپا کے ٹوٹکوں کی زینت بنایا جاتا ہے اس کو غم کے کھانے کی بجاۓ گابجا کر کھایا جاتا ہے جہاں شامیانے آستانوں کے، سکیورٹی خدمت گزاروں کی، برتن مریدین، پوسٹ مین پنکھوں کی صورت میں اور منیو عوام کے ٹیکسوں کا ہوتا ہے۔ایسی ضیافتوں میں گن گانے والوں کا خصوصی ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے ۔آخر پہ دعائیہ کلمات عوام کا تمسخر اور ثواب کی نیت سے آمین کہا جاتا ہے۔عارفی صاحب کی آنکھیں نم اور آواز میں سوز کی وجہ سے یہی الفاظ کچھ یوں ادا ہو رہے تھے ہم۔۔۔۔۔ں۔ں۔ں کھا ۔اں۔اں۔لیں۔ن۔ن۔ گیں ں۔ں۔ کو نسا۔آ۔آ۔ قیامت۔ت۔ت۔ت۔ت آ۔ا۔ا۔ جاے۔گی۔ان۔ان۔۔۔۔۔ بیٹا زندگی کی رسی گر داراز رہی تو اس چوراہے پہ ملاقات ہو گی۔ سرکاری مت کھانا بھکاری بن جانا۔۔۔ نماز کا ٹائم ہو رہا ہے بیٹا بھکاری بننے کا ٹائم آ گیا ہے

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here