Hasan Basri And An Alcoholic

228

حسن بصری اور ایک شرابی

حسن بصریؒ کا دور ہے۔ آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے کے لیے آیا کرتی تھی،اس کا ایک بیٹا تھا،خاوند کا اچھا کاروبار تھا، یہ نیک عورت تھی، عبادت گزار خاتون تھی، باقاعدہ درس سنتی اور نیکی پر زندگی گزارتی تھی۔ اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا، اس نے دل میں سوچا کہ ایک بیٹا ہے. اگر میں دوسرا نکاح کر لوں گی، مجھے تو خاوند مل جائے گا. مگر بچہ کی زندگی برباد ہو جائے گی. پتہ نہیں وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا. اب وہ جوان ہونے کے قریب ہے. یہی میرا سہارا سہی. لہٰذا یہ سوچ کر ماں نے جذبات کی

قربانی دی. ایسی عورت حدیث پاک میں آیا ہے کہ جو اس طرح اگلی شادی نہ کرے اور بچوں کی تربیت اور حفاظت کے لیے اسی طرح زندگی گزارے، تو باقی پوری زندگی اس کو غازی بن کر زندگی گزارنے کا ثواب دیا جائے گا کیوں کہ جہاد کر رہی ہے اپنے نفس کے خلاف. لہٰٰذا وہ ماں گھر میں بچہ کا پورا پورا خیال رکھتی تھی. لیکن یہ بچہ جب گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہو پاتی. اب اس کے پاس مال کی بھی کمی نہیں تھی. اٹھتی جوانی تھی اور یہ اٹھتی جوانی کلوفارم کے نشہ کی طرف ہوتی ہے. جیسے اس کا نشہ مریض کو سنگھائو تو کچھ پتہ نہیں چلتا. دن کب چڑھا کب ڈوبا؟ یہ جوانی بھی اسی طرح ہوتی ہے. دیوانی، مستانی، شہوانی. کچھ پتہ نہیں ہوتا اس جوانی میں نوجوانوں کو کیا ہو رہا ہے. اپنے جذبات میں لگے ہوتے ہیں. چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہو گیا. شباب اور شڑاب کے کاموں میں مصروف ہوگیا. ماں برابر سمجھاتی لیکن بچہ پر کچھ اثر نہ ہوتا. چکنا گھڑا بن گیا. وہ ان کو حسن بصریؒ کے پاس لے کر آتی. حضرت بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے، لیکن اس کو نیکی کی طرف دھیان ہی نہیں تھا. کبھی کبھی ماں کو ملنے آتا. ماں پھر سمجھاتی اور پھر اس کو حضرت کے پاس لے جاتی. حضرت بھی سمجھاتے، دعائیں بھی کرتے، مگر اس کے کان پر جوں نہ رینگتی. حتیٰ کہ حضرت کے دل میں یہ بات آئی کہ شاید اس کے دل پر مہر لگ گئی ہے. کبھی کبھی اللہ تعالیٰ مہر جباریت لگا دیتا ہے. دلوں کو پتھروں سے بھی زیادہ سخت کر دیتاہے. لہٰذا حضرت کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اب اس کا دل پتھر بن گیا ہے. مہر لگ گئی ہے. ماں تو بہرحال ماں ہوتی ہے. دنیا میں ماں ہی تو ہے جو اچھوں سے بھی پیار کرتی ہے اور بروں سے بھی پیارکرتی ہے مگر ماں وہ شخصیت ہے اولاد بری بھی ہو جائے تو وہ

کہے گی قسمت ان کی مگر میرے تو بچے ہیں. ماں تو ان کو نہیں چھوڑ سکتی. باپ بھی کہہ دیتا ہے کہ گھر سے نکل جائو، اس کو دھکا دو، مگر ماں کبھی نہیں کہتی. اس کے دل میں اللہ نے محبت رکھی ہے. چنانچہ ماں اس کے لیے پھر کھانا بنا کر دیتی ہے. اس کے لیے دروازہ کھولتی ہے اور پھر پیار سے سمجھاتی ہے. میرے بیٹے نیک بن جا. زندگی اچھی کر لے. اب دیکھئے اللہ کی شان کہ کئی سال برے کاموں میں گ کر اس نے صحت بھی تباہ کر لی اور دولت بھی تباہ کر لی. اس کے جسم میں بیماریاں پیدا ہوگئیں. ڈاکٹروں نے بیماری بھی لاعلاج بتائی.

شباب کے کاموں میں پھر ٹی بی تو ہوتی ہے تو لاعلاج بیماری لگ گئی. لہٰذا اب اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑ گیا. اتنا کمزور ہو گیا کہ اب اس کو آخرت کا سفر نظر آنے لگا. ماں پھر پاس بیٹھی ہوئی محبت سے سمجھا رہی ہے. میرے بیٹے تو نے جو زندگی کا حشر کر لیا وہ تو کر لیا. اب بھی وقت ہے تو معافی مانگ لے توبہ کر لے. ا للہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والے ہیں. جب ماں نے پھر پیار و محبت سے سمجھایا. پھر اس کے دل پرکچھ اثر ہوا، کہنے لگا کہ ماں میں کیسے توبہ کروں؟ امی آپ ایسا کریں کہ خود ہی حسن بصریؒ کے پاس جائیں

اور حضرت کو بلا کر لے آئیں. ماں نے کہا، ٹھیک ہے بیٹا. میں حضرت کے پاس جاتی ہوں. بچے نے کہا کہ امی اگر آپ کے آنے تک میں دنیا سے رخصت ہو جائوں تو امی حسن بصریؒ سے کہنا کہ میری نماز جنازہ بھی وہی پڑھائیں. چنانچہ ماں حسن بصریؒ کے پاس گئیں، حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا اس لیے قیلولہ کے لیے لیٹنا چاہتے تھے. ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا کون؟ عرض کیا حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں. میرا بچہ اب آخری حالت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے. آپ گھر تشریف

لے چلیں اور میرے بچے کو توبہ کرا دیں. حضرت نے سوچا کہ اب پھروہ اس کو دھوکہ دے رہا ہے، پھر وہ اس کا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا. سالوں گزر گئے اب تک تو کوئی بات اثر نہ کر سکی، اب کیا کرے گی. کہنے لگے میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟ میں نہیں آتا. ماں نے کہا، حضرت اس نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر میرا انتقال ہو جائے تو میرے جنازہ کی نماز حسن بصری پڑھائیں. حضرت نے کہا، میں اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائوں گا. اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی اور کچھ حضرات تھے اس امت میں جو بے نمازی کے

جنازے کی نماز نہیں پڑھاتے تھے. وہ کہتے ہیں کہ من ترک الصلوۃ متعمدافقد کفر. یہ تو امام اعظم پر اللہ تعالیٰ رحمتیں برسائے کہ انہوں نے گنجائش رکھی، آپؒ فرماتے ہیں کہ اس نے کافروں والا کام تو کیا مگر کفر کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا. تو حسن بصریؒ نے فرمایا کہ اس نے تو کبھی نماز نہیں پڑھی، لہٰذا میں جنازہ بھی نہیں پڑھائوں گا اور نہ پڑھوں گا. اب وہ شاگرد تھی چپکے سے اٹھی مغموم دل ہے ایک طرف بیٹا یمار دوسری طرف سے حضرت کا انکار اس کا غم تو دوگنا ہو گیا تھا. وہ بے چاری آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے اپنے گھر واپس آئی. بچے نے

ماں کو زار و قطار روتا ہوا دیکھا. اب اس کا دل اور موم ہو گیا. کہنے لگا امی آپ کیوں اتنا زار و قطار رو رہی ہیں؟ ماں نے کہا، بیٹا! ایک تیری یہ حالت ہے اور دوسری طرف حضرت نے تیرے پاس آنے سے انکار کر دیا. تو اتنا برا کیوں ہے کہ وہ تیرے جنازہ کی نماز بھی پڑھانا نہیں چاہتے؟ اب یہ بات بچے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اس کے دل پر صدمہ ہوا کہنے لگا امی مجھے مشکل سے سانس آ رہی ہے. ایسا نہ ہو میری سانس اکھڑنے والی ہو لہٰذا میری ایک وصیت سن لیجئے. ماں پوچھا، بیٹا وہ کیا؟ کہا، میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جاننکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹہ میرے گلے ڈالنا، میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے. ماں نے پوچھا، بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کو پتہ چلے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے. اور امی مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا. ماں نے کہا، بیٹے! تجھے قبرستان میں دفن کیوں نہ کروں؟ کہا، امی مجھے اس صحن میں دفن کر دینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے. جس وقت نوجوان نے

ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی. روح قبض ہو گئی ابھی روح نکلی ہی تھی اور ماں اس کی آنکھیں بند کر رہی تھی کہ باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا؟ جواب آیا میں حسن بصری ہوں. کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور میں سو گیا تو خواب میں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا. پروردگار نے فرمایا. حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے. میں سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے. تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے

کے لیے حسن بصری آیا کھڑا ہے. پیارے اللہ جب آپ اتنے کریم ہیں کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے آپ اس کی زندگی کے گناہوں کو بھی معاف کر دیتے ہیں. تو میرے مالک! آج ہم آپ کے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں آج ہم اپنے جرم کی معافی مانگ رہے ہیں. اپنی خطائوں کی معافی مانگ رہے ہیں. میرے مالک ہم مجرم ہیں. ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں. اللہ ہم جھوٹ نہیں بول سکتے. ہماری حقیقت آپ کے سامنے کھلی ہے. مگر رحمت فرما دیجئے. میرے مولا ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجئے. ہمیں تو دھوپ کی گرمی بھی برداشت نہیں ہوتی، اللہ تیرے جہنم کی گرمی کہاں برداشت ہو گی. اے پروردگار عالم! ہماری توبہ قبول فرما لیجئے اور باقی زندگی ایمانی، اسلامی، قرآنی بسر کرنے کی توفیق عطا فرما دیجئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here