نواز شریف تاریخ کا بد ترین کافر’’مرحب‘‘ قرار!! عابد شیر علی نے کیا خطاب دے دیا؟

801

نواز شریف تاریخ کا بد ترین کافر’’مرحب‘‘ قرار!! عابد شیر علی نے کیا خطاب دے دیا؟

 وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے میاں نواز شریف کو تاریخ اسلام کے ایک بد ترین کافر سے ملا دیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلامی تاریخ سے نا بلد وزیر مملکت عابد شیر علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے اکائونٹ سے میاں نواز شریف کی تصویر کے ہمراہ ایک شعر لکھا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔ پہلے للکار رہے تھے کہ کہاں ہے مرحب جب وہ میدان میں آیا تو بُرا مان گئےواضح رہے کہ ’’مرحب ‘‘ کا شمار اسلام کے بد ترین دشمنوں میں ہوتا ہے اور جنگ خیبر کے موقع پر حضرت

علیؓ نے اس بد بخت کو واصل جہنم کیا تھا۔ عابد شیر علی نے اسلامی تایخ سے نا آشنائی کی وجہ سے میاں نواز شریف کو ’’مرحب ‘‘ یعنی تاریخ کا بد ترین کافر قرار دیدیا ہے، اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عوام الناس میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہےاور اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایسے لوگ جو اسلامی تاریخ سے نا بلد اور دشمنان اسلام کو ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں

وہ ہمارے رہنما کیسے ہو سکتے ہیں؟ قارئین کیلئے خیبر کی جنگ میں ’’مرحب ‘‘ کو زیر کرنے کا احوال ذیل میں دیا جا رہا ہے۔ جنگ خببر میں جب خیبر کا قلعہ کسی طور بھی فتح نہیں ہورہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حملہ کرنے کا حکم دیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ” قلعہ قموص ” کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹ اور پتھر اور تیرو تلوار سے دیا۔

اور قلعہ کا رئیس اعظم ” مرحب ” خود بڑے طنطنہ کے ساتھ نکلا۔ سر پر یمنی زرد رنگ کا ڈھاٹا باندھے ہوئے اور اس کے اوپر پتھر کا خود پہنے ہوئے رجز کا یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کے لئے آگے بڑھا کہ خیبر خوب جانتا ہے کہ میں ” مرحب ” ہوں، اسلحہ پوش ہوں، بہت ہی بہادر اور تجربہ کار ہوں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں رجز کا یہ شعر پڑھا۔

میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں۔ مرحب نے بڑے طمطراق کے ساتھ آگے بڑھ کر شیر خدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا پینترا بدلا کہ مرحب کا وار خالی گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹا، مغفرکٹا اور ذوالفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اور تلوار کی مار کا تڑا کہ فوج تک پہنچا اور مرحب زمین پر گر کر ڈھیر ہو گیا۔مرحب کی لاش کو زمین پر تڑپتے ہوئے دیکھ کر اس کی تمام فوج شیر خدا حضرت علی رضیاللہ عنہ پر ٹوٹ پڑی۔

لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک کر گرتی تھی جس سے صفوں کی صفیں اُلٹ گئیں۔ اور یہودیوں کے مایہ ناز بہادر مرحب، حارث، اسیر، عامر وغیرہ کٹ گئے۔ اسی گھمسان کی جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ڈھال کٹ کر گر پڑی تو آپ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر قلعہ قموص کا پھاٹک اکھاڑ دیا اور کواڑ کو ڈھال بنا کر اس پر دشمنوں کی تلواریں روکتے رہے۔

یہ کواڑ اتنا بڑا اور وزنی تھا کہ بعد میں چالیس آدمی مل کر بھی اس کو نہ اٹھا سکے۔ بے شک حضرت حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محب بھی ہیں اور محبوب بھی ہیں۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے خیبر کی فتح عطا فرمائی اور قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو فاتح خیبر کے معزز لقب سے سر فراز فرما دیا اور یہ وہ فتح عظیم ہے جس نے پورے ” جزیرۃ العرب ” میں یہودیوں کی جنگی طاقت کا جنازہ نکال دیا۔

فتح خیبر سے قبل اسلام یہودیوں اور مشرکین کے گٹھ جوڑ سے نزع کی حالتمیں تھا لیکن خیبر فتح ہو جانے کے بعد اسلام اس خوفناک نزع سے نکل گیا اور آگے اسلامی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مکہ بھی فتح ہو گیا۔ اس لئے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فاتح خیبر کی ذات سے تمام اسلامی فتوحات کا سلسلہ وابستہ ہے۔ بہر حال خیبر کا قلعہ قموص بیس دن کے محاصرہ اور زبردست معرکہ آرائی کے بعد فتح ہو گیا۔ ان معرکوں میں ۹۳ یہودی قتل ہوئے اور ۱۵ مسلمان جام شہادت سے سیراب ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here